آئینۂ احوال
مجموعۂ تحاریر، افکار و مشاہدات

سفرِ علم، فکر اور خدمت
مجموعۂ تحاریر، افکار و مشاہدات
مقدمہ: آئینۂ احوال
بِاسْمِہٖ تَعَالٰی
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ، أَمَّا بَعْدُ:
تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا اور اسے علم اور عقل عطا کی، اور اپنے فضل سے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
انسان کی حقیقی عزت کا راز اسی علم میں ہے جو اسے اپنے خالق سے جوڑے اور اسے مقصدِ زندگی سمجھائے۔
آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت (AI) اور سائبر سیکیورٹی نے زندگی کے ہر پہلو کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف ٹیکنالوجی کی تیز ترین پیشرفت ہے، تو دوسری طرف مغربی تہذیب کا اثر ہے جس نے انسانی ذہن کو مادّیت اور افکار کے انتشار میں مبتلا کر دیا ہے۔
عصرِ حاضر کا سب سے بڑا چیلنج امت کے نوجوانوں کو فکری طور پر بیدار کرنا ہے۔ اس دور میں وقت کی شدید ضرورت ہے کہ ایسی کاوشیں سامنے آئیں جو نوجوانوں کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کے لیے مشعلِ راہ بنیں۔
ہمارے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف قرآن و سنت کی طرف لوٹنے اور زندگی کے ہر شعبے میں سیرتِ نبوی ﷺ کو اپنا رہنما بنانے میں ہے۔
اس کاوش کا بنیادی مقصد جدید علوم، ٹیکنالوجی اور دورِ حاضر کے فکری چیلنجز کو قرآن و سنت کے تابع کرنا ہے، یعنی ایک ایسی فکر کو فروغ دینا جو:
- انسان کو اس کے رب سے جوڑے
- اسے دنیا میں اس کی اصل ذمہ داریوں کا احساس دلائے
- اور نوجوانوں کو اقامتِ دین اور امتِ مسلمہ کی باکردار قیادت کے لیے تیار کرے
آئینۂ احوال کیا ہے؟
’آئینۂ احوال‘ محض چند تحریروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسی دعوت اور فکر کا ایک تحریری عکس ہے۔ یہ میرے افکار، مشاہدات، قلبی احساسات اور زندگی کے اسباق کا نچوڑ ہے، جس کا واحد مقصد خود کو اور قارئین کو مقصدِ زندگی یاد دلانا ہے۔
یہ کاوش کتاب کے ساتھ ساتھ مکمل ای بک (E-Book) کی صورت میں ویب پر بھی پڑھنے کے لیے دستیاب ہے تاکہ یہ پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک آسانی سے پہنچ سکے۔
اس مجموعے کو مرتب کرنے کا سفر شاید ادھورا ہی رہتا، اگر میرے ایک نہایت مخلص اور قریبی ساتھی کی پیہم ترغیب اور یاد دہانی شاملِ حال نہ ہوتی۔ انہوں نے بار بار مجھے اسے مکمل کرنے کی طرف متوجہ رکھا۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس مخلصانہ کوشش اور اس عاجزانہ کاوش کو قبول فرمائے۔ ربِ کریم اس کتاب کو امت کے نوجوانوں کے لیے ہدایت اور بیداری کا ذریعہ بنائے اور ہم سب کو اقامتِ دین کی جدوجہد میں ثابت قدم اور باکردار قائد کے طور پر قبول فرمائے۔
سورۃ ہود: آیت ۸۸
وَمَا تَوۡفِیۡقِیۡۤ اِلَّا بِاللّٰہِ ۚ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ اِلَیۡہِ اُنِیۡبُ ﴿۸۸﴾
اور مجھے جو کچھ توفیق ہوتی ہے، صرف اللہ کی مدد سے ہوتی ہے۔ اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور اسی کی طرف میں (ہر معاملے میں) رجوع کرتا ہوں۔
آمین یا رب العالمین!
تعارف: تحدیثِ نعمت: سفرِ حیات کے پچیس سال
الحمد للّٰہ، اللہ کا بہت احسان ہے کہ اس کے فضل اور اس کی رحمت سے میں نے اب تک اپنی زندگی کے پچیس سال مکمل کرلیے ہیں۔ زندگی کے اس سفر میں کئی نشیب و فراز آئے، لیکن اللہ کی رحمت سے اس نے میری مدد و رہنمائی فرمائی، جس پر میں رب کا بہت شکر گزار ہوں۔ اللہ نے مجھ جیسے انسان کو چنا، ان احسانات اور اللہ کی بے شمار نعمتوں کا میں احاطہ بھی نہیں کر سکتا۔
کیونکہ باری تعالٰی کا ارشاد ہے
Surat No 16 : سورة النحل - Ayat No 18
وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۸﴾
اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو اُنہیں شمار نہیں کر سکو گے یقیناً اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
زندگی کے چند ادوار جنکا ذکر تحدیث نعمت کے طور پر کررہا ہوں کیونکہ باری تعالٰی کا ارشاد ہے
Surat No 93 : سورة الضحى - Ayat No 11
وَ اَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ﴿۱۱﴾
اور اپنے رب کی نعمتوں کا خوب بیان فرمائیں۔
زندگی کے ابتدائی دور میں، یا جسے آپ بچپن و لڑکپن کا دور کہہ سکتےہیں، جب میں گیارہ سال کا تھا، تو سب سے بڑا انعام جو اللہ نے مجھ پر کیا اور جو میری زندگی کی تمام نعمتوں کی کنجی بنا، وہ یہ ہے کہ اللہ نے مجھے حفظِ قرآن کی سعادت عطا فرمائی، جس پر میں رب کا شکر گزار ہوں۔
اس کے بعد دوسرا بڑا انعام یہ تھا کہ مجھے قرآن کو سمجھنے اور دین کے وسیع تصور کو مکمل انداز میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائی۔ اس کے لیے اللہ نے میری رہنمائی فرمائی اور مجھے جامعۃ الامام نعمان بن ثابت میں تعلیم حاصل کرنے کی توفیق دی، جس نے مجھے ہمیشہ درس دیا: اقامتِ دین کی جدوجہد کا، فرقہ واریت سے کنارہ کشی کا، اتحادِ امت کا، اپنی ذات میں ایک تحریک بننے کا، اور دینی و عصری تعلیم (دونوں) حاصل کرنے کا۔ اس جامعہ نے میری فکری بیداری اور شعور کے لیے مجھے تین بار "مطالعاتی دورہ پاکستان" کروایا، دورِ جدید کے چیلنجز سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت دی اور اعتماد دیا۔ یوں کہیے کہ مجھے شاہین کی پرواز جنون عطا کی، جس نے میری بچپن سے کردار سازی کی، علامہ اقبال کے بچۂ شاہیں کی طرح سمجھا، وہ جامعہ جس نے پوری دنیا کے سامنے اپنے ما فی الضمیر بیان کرنے اور مجھے دنیا کے ہر میدان میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا، مجھے حوصلہ دیا اور قائدانہ صلاحیتوں سے نوازا۔ اسی جامعہ سے میں نے چھٹی جماعت سے لیکر درس نظامی کی تعلیم مکمل کی نیز ابتدائی سالوں میں وہاں کے دارالاقامہ (ہاسٹل) میں مقیم (رہائش پذیر) بھی رہا۔
اللہ نے تیسرا بڑا انعام قرآن پاک کے ایک اسائنمنٹ کے ذریعے دیا۔ میرے استادِ محترم نے قرآن سے انسان و جنات سے متعلق آیات نکالنے کا کہا۔ میں نے ازراہِ مذاق یا تعجب کہا: "سر! اس میں تو چھ ماہ لگیں گے۔" اس پر انہوں نے مجھے ایک "قرآن ایپ" سے متعارف کروایا جس نے ایک کلک پر انسان اور جنات سے متعلق تمام آیات سامنے لا کر رکھ دیں۔ میں نے اس ٹیکنالوجی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے آئی ٹی (IT) کا بتایا۔ چنانچہ میں نے میٹرک سے پہلے ہی ایک معروف تعلیمی ادارے Eureka Information Technology سے تین سالہ آئی ٹی پروگرام مکمل کیا۔
چوتھا بڑا انعام مجھے آئی بی اے (IBA) یونیورسٹی کے آئی ٹی تعلیمی پروگرام میں ملا، جہاں میرا نام "اسکالر شپ" پر ٹوٹل فری آیا۔ میں نے اس وقت ٹاپ کیا اور اول پوزیشن حاصل کی۔ الحمدللہ۔
پانچواں انعام، یا یوں کہیے کہ اللہ کا میرے لیے بہترین فیصلہ یہ ہوا کہ میں نے بی کام (BCom) میں ایڈمیشن لیا تھا، لیکن اس وقت میرا تعلیمی سال کچھ بدلتی ہوئی تعلیمی پالیسیوں کی وجہ سے ضائع ہو گیا۔ مجھے اس پر بہت رنج اور افسوس ہوا، لیکن بعد ازاں میرے رب نے میرے لیے بہتر فیصلہ کیا۔
باری تعالٰی کا ارشاد ہے
Surat No 2 : سورة البقرة - Ayat No 216
وَ عَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَ عَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ شَرٌّ لَّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۱۶﴾
اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیزکو نا پسند کرو اور وہی تمہارے لئے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے کہ کسی چیز کو تم پسند کرو اور وہی تمہارے حق میں بُری ہو اور (حقیقتِ حال) اللہ ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
ایک سال بعد میں نے جامعہ کراچی کے ڈیپارٹمنٹ "شیخ زاید اسلامک سینٹر" سے "اسلامک اسٹڈیز بمع کمپیوٹر ٹیکنالوجی" کے پروگرام میں داخلہ لیا اور الحمدللہ وہ ڈگری بحسن و خوبی مکمل ہو گئی۔
چھٹا بڑا انعام اللہ نے یہ دیا کہ مجھے مختلف نجی و سرکاری تعلیمی اداروں اور کالجز میں تدریسی فرائض انجام دینے کی توفیق عطا فرمائی۔ اللہ نے مجھے مختلف علوم سکھائے اور ان شعبوں (AI سسٹم انجینئرنگ، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا سائنس، سافٹ ویئر انجینئرنگ) میں خدمات کی توفیق دی۔ الحمدللہ، اب تک میرے ہاتھ سے تقریباً 2074 طلبہ تیار ہو چکے ہیں۔
ساتواں انعام اللہ نے یہ دیا کہ مجھے ملکی اور بین الاقوامی نامور یونیورسٹیز (جیسے NED, IBM, Apna College, Macquarie University) سے مختلف کورسز پڑھنے کی توفیق دی۔
آٹھواں انعام اللہ نے یہ دیا کہ مجھے اسلامک پروجیکٹس بنانے کی توفیق دی، جن میں "ہدایہ کلاؤڈ" سرِ فہرست ہے۔ اللہ کی رحمت و نصرت سے، GitHub کے اعداد و شمار کے مطابق، اب تک میں تقریباً 25.3 ملین لائنز آف کوڈ لکھ چکا ہوں، جن میں سے 15 ملین لائنز صرف اسلامک پروجیکٹس کا کوڈ ہے۔
نواں انعام جو اللہ نے ابھی دیا ہے، وہ ایک ادارے کا پہلا قدم ہے: SMASB Institute۔ یہ آن لائن طلبہ کا ادارہ ہے جہاں بچوں کو عربی، آئی ٹی، اے آئی (AI) اور سافٹ ویئر انجینئرنگ کے کورسز کروائے جا رہے ہیں۔ اس کا مقصد ایسے باشعور نوجوان، باکردار افراد، اسکالرز، پروفیشنلز اور رہنماؤں کی تیاری ہے جو اسلامی فہم، جدید سائنسی علوم اور بزنس سے آراستہ ہونے کے ساتھ عصرِ حاضر کے چیلنجز کا مؤثر حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
اس کے علاوہ اللہ کے اتنے انعامات و نعمتیں ہیں جن کا میں احاطہ نہیں کر سکتا، بس اس خدا کا شکر ہی ادا کر سکتا ہوں جس نے مجھے نوازا۔
مجھ سے ایک سوال بہت پوچھا جاتا ہے: "آپ نے اب تک شادی کیوں نہیں کی؟" جسے میں کبھی ہنس کر اور کبھی غصے میں یہ کہہ کر ٹال دیتا ہوں کہ: This is none of your business. لیکن آج اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ 😁
بھائی، اس کی دو وجوہات ہیں:
- ہمارے معاشرے میں اللہ سے دوری اور توکل کی بہت کمی ہے۔
- لوگوں کو "زنانہ مرد" اور "مردانہ عورتیں" پسند ہیں، جو کہ بالکل بھی اسلام کا مزاج نہیں ہے۔
میرا مزاج اس کے بالکل برعکس، عین اسلامی اصولوں کے مطابق ہے، اور ان شاء اللہ جب وقت ہوگا، اللہ نے چاہا تو ہو جائے گی۔ آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس اللہ نے مجھ پر اتنے انعامات کیے، جس کا میں ہرگز قابل نہ تھا، وہ نہ مجھے اکیلا چھوڑے گا نہ آپ کو۔ ان شاء اللہ۔
اللہ نے زندگی کے ہر سفر میں میری بہت مدد کی، اس کی مدد کے بغیر کچھ ممکن نہیں تھا۔ میری زندگی میں ہر لحاظ سے بہت زیادہ تکلیف دہ مراحل بھی آئے، جن میں اللہ نے سہارا دیا۔ میں نے زندگی سے یہی سیکھا کہ جب تک ہم اس دنیا میں ہیں، انسان کو دکھوں اور غموں کا سامنا رہے گا۔ ہم مسلمان اس دنیا میں اخروی تیاری کے لیے آئے ہیں تاکہ ایک شاندار آخرت بنا سکیں۔ ہمیں دنیا کو مسافر خانہ ہی سمجھنا ہے، یہاں کی چکا چوند سے دل نہیں لگانا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي، فَقَالَ: "كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ"
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا شانہ پکڑ کر فرمایا ”دنیا میں اس طرح ہو جا جیسے تو مسافر یا راستہ چلنے والا ہو۔
[صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6416]
حدیث کے مطابق مومن کے لیے تو ویسے ہی یہ دنیا قید خانہ ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔“
[صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7417]
آپ کو کبھی بھی کوئی مشکل آئے تو اللہ سے مانگیں، وہ دے گا۔ وہ آپ کی اور آپ کے ارد گرد کی مشکلات کو جانتا ہے، اس کی رحمت بہت وسیع ہے۔ بس زندگی کے اس کٹھن سفر میں آپ ہوں، اور بس آپ کا اپنے رب سے مضبوط تعلق ہونا چاہیے، امید صرف اللہ سے اور مانگنا بھی صرف اللہ سے۔
جہاں مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میرے پچیس سال مکمل ہو گئے، وہاں اس بات کی تذکیر (یاددہانی) بھی ہے کہ اللہ اس مختصر سی زندگی میں ایمان کے ساتھ واپس لے کر جائے اور جب میں اس دنیا سے جاؤں تو میرا رب مجھ سے راضی ہو اور مجھ سے دین کی اقامت کا کوئی بڑا کام لے لے۔
بقول علامہ اقبال رحمۃاللہ علیہ کہ
نُورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے
کچھ آیات جو آج کل میرے ذہن میں بہت گردش کررہی ہیں 😢 جو بہر حال ہم سب کے لیے تذکیر (یاددہانی) ہیں:
Surat No 29 : سورة العنكبوت - Ayat No 69
وَ الَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۶۹﴾
اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیں گے اور بےشک اللہ ضرور نیک لوگوں کے ساتھ ہے۔
Surat No 29 : سورة العنكبوت - Ayat No 64
وَ مَا ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا لَہۡوٌ وَّ لَعِبٌ ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ لَہِیَ الۡحَیَوَانُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۴﴾
اور یہ دنیا کی زندگی توصرف کھیل اور تماشا ہے اور بےشک آخرت کا گھر ہی (اصل) زندگی ہے کاش کہ وہ جانتے۔
Surat No 3 : سورة آل عمران - Ayat No 185
کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡتِ ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدۡخِلَ الۡجَنَّۃَ فَقَدۡ فَازَ ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ﴿۱۸۵﴾
ہرنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تمہیں قیامت کے دن تمہارے اَجر پورے پورے دیئے جائیں گے تو جو (جہنم کی) آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکہ کا سامان ہے۔
Surat No 22 : سورة الحج - Ayat No 5
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ فَاِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَّ غَیۡرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمۡ ؕ وَ نُقِرُّ فِی الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ۚ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِکَیۡلَا یَعۡلَمَ مِنۡۢ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ ہَامِدَۃً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ اہۡتَزَّتۡ وَ رَبَتۡ وَ اَنۡۢبَتَتۡ مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍ ۢ بَہِیۡجٍ ﴿۵﴾
اے لوگو! اگر تمہیں (دوبارہ) جی اٹھنے میں کوئی شک ہے تو یقیناً ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) مٹی سے پیدا کیا پھر ایک قطرہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کی بوٹی سے (جس کی بناوٹ) مکمل بھی ہوتی ہے اور اُدھوری بھی تا کہ ہم تمہارے لئے ظاہر کردیں اور ہم جس کو چاہتے ہیں رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں ایک خاص وقت تک پھر تمہیں بچے کی صورت میں نکالتے ہیں پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ۔ اور تم میں سے کوئی فوت ہو جاتا ہے اور تم میں سے کوئی ہے وہ جو ناکارہ عمر (زیادہ بڑھاپے) تک پہنچا دیا جاتا ہے تاکہ (بہت کچھ) جاننے کے بعد کچھ بھی نہ جانیں اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک پڑی ہوتی ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی خوشنما نباتات اُگاتی ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ایمان پر خاتمہ فرمائے، دین کا کوئی بڑا کام لے لے اور ہمیشہ راضی رہے۔ آمین ثم آمین۔